اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق صدر ایران حسن روحانی نے نیویارک میں ، پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ یورپ ایٹمی معاہدے میں باقی بھی رہنا چاہے اور یہ بھی چاہے کہ صرف ایران ہی وعدوں پر عمل کرتا رہے -انہوں نے کہا کہ گروپ چار جمع ایک کے ساتھ مذاکرات جاری رہیں گے لیکن اگر انہوں نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا تو ایران بھی ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد کی سطح میں کمی لانے کا عمل جاری رکھے گا-صدر روحانی نے ایرانی عوام کے خلاف امریکہ کی زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ یہ چاہتا تھا کہ پابندی کے ذریعے ایرانی قوم اور حکومت میں جدائی ڈال دے لیکن وہ ایسا نہیں کرسکا- ڈونلڈ ٹرمپ نے ایسی روش کا انتخاب کیا ہے کہ آئے دن ایرانی عوام میں امریکہ سے نفرت بڑھتی جا رہی ہے -صدر ایران نے اسی طرح ایران کے میزائل پروگرام کے تعلق سے تہران کے ساتھ مذاکرات کے لئے امریکی درخواست کے بارے میں کہا کہ امریکہ میزائل کی بحث میں داخل نہ ہو ورنہ جواب دہ ہونا پڑے گا، اس لئے کہ علاقے کے ملکوں کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت نے علاقے میں عدم توازن پیدا کیا ہے-اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے اسی طرح سعودی عرب کی تیل کمپنی آرامکو پر حملے میں ایران کے ملوث ہونے کے بارے میں کئے جانے والے دعووں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت علاقے میں ایک خونریز جنگ ہو رہی ہے جو بے نتیجہ ہے اور چونکہ یمن کے خلاف جارح ملک نے حملہ کیا ہے اس لئے یمنیوں کو بھی اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے-
۔۔۔۔۔۔۔
/169